Skip to content
William Wordsworth

ادب اور جمہوریت

William Wordsworth
ادب اور جمہوریت


اس موضوع پر اظہار خیال کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ میں کچھ دیر جمہوریت کی مدح میں قصیدہ پڑھوں اور کچھ دیر آمریت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کروں اور آخر میں فنون لطیفہ کے بارے میں کچھ عام سی باتیں خاص انداز میں کر کے آپ سے رخصت ہو جاؤں لیکن میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ اس لیے نہیں رکھتا کہ میں جمہوریت کو ہمیشہ سے ایک بہتر اور فطری نظام سمجھتا ہوں اور آمریت کو ہمیشہ سے غیر انسانی اور جابرانہ نظام سمجھتا ہوں۔ میری رائے آج بھی یہی ہے، گزرے ہوئے کل میں بھی یہی تھی اور آنے والے کل میں بھی یہی ہوگی۔ یہ انداز نظر میری فکر، میری ذات، میری شخصیت اور میرے ذہن و دانش کا حصہ ہے اور میری تحریروں اور تصانیف میں بار بار آیا ہے۔ یہ بات کہہ کر میں براہ راست اپنے موضوع پر آتا ہوں اور آنے سے پہلے یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فنون لطیفہ میں چوں کہ ادب، شاعری، موسیقی، مصوری اور دوسرے سب فنون شامل ہیں اور مختصر سے وقت میں ان سب پر بات کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے میں اپنی بات کو صرف ادب تک محدود رکھوں گا۔ فرانسیسی مفکر، ادیب، ژاں پال سارتر سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک ادب
اور سیاست کا کیا رشتہ ہے تو اس نے جواب دیا کہ سیاسی عمل کو ایک ایسی دنیا کی تعمیر کرنی چاہیے جس میں ادب آزادی کے ساتھ آزادی کی فضا میں اظہار کر سکے۔ ادب آزادی کے اظہار کی ایک حقیقی صورت ہے۔ آزادی کی یہی وہ فضا اور آزادی کا یہی وہ تصور ہے جس نے فرانسیسی ادب کو دنیا کے لیے مینارۂ نور بنایا ہے۔ وہاں کا فرد خود کو نہ صرف آزاد محسوس کرتا ہے بلکہ آزادی کے ساتھ  اظہار بھی کرتا ہے اور آزادی کا یہی احساس فرد اور معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کا تعین کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ الجزائر کی جنگ آزادی کے دوران سارتر اور حکومت وقت کا طرز عمل ایک دوسرے سے بالکل متضاد تھا۔ سارتر الجزائر کی آزادی کا حامی اور ڈی گال کی حکومت اس آزادی کی مخالف تھی۔ سارتر فرانس میں الجزائر کی حمایت کی تحریک میں پیش پیش اور حکومت وقت سے متصادم تھا۔ اسی کش مکش میں اس کے گھر پر ہم بھی پھینکا گیا اور پولیس نے تجویز پیش کی کہ سارتر کو گرفتار کر کے قید کر دیا جائے۔ جب یہ فائل ڈیگال کے سامنے آیا تو ڈی گال نے کہا کہ میں سارتر کی گرفتاری کے کاغذ پر اس لیے دستخط نہیں کر سکتا کہ یہ بات تو آنے وقت ہی بتائے گا کہ آیا میں فرانس تھا یا سارتر فرانس تھا؟ اور میں فرانس کو یقینا گرفتار نہیں کر سکتا۔ اس واقعہ سے اس انداز نظر اور اُس اندازِ نظر سے پیدا ہونے والی فضا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس سے ادب  و فکر کی روح پروان چڑھتی ہے اور حقیقی جمہوریت کی فضا سے معاشرہ مہک اٹھتا ہے۔ جمہوریت اور ادب دونوں ساتھ ساتھ چلتے اور ایک دوسرے کو مستحکم کرتے ہیں۔ ادب بغیر جمہوریت کے مرجھایا ہوا پھول ہے اور جمہوریت بغیر ادب کے ایک بنجر ریگ زار ہے۔ جمہوریت صرف کسی ایسی حکومت کا نام نہیں ہے جسے عوام نے منتخب کیا ہو بلکہ یہ ایک طرزِ حیات، ایک اندازِ فکر ہے جس میں دشمن کی بات بھی، ملک و قوم اور عالم انسانیت کے حوالے سے، ٹھنڈے دل سے سنی جاتی ہے، جس میں ذات کو فنا کر کے اجتماعی روح کو اہمیت دی جاتی ہے، جس میں تعصبات سے بلند ہو کر فیصلے کیے جاتے ہیں جس میں چھوٹی سے چھوٹی رائے کو توجہ اور تحمل سے سنا جاتا ہے اور صرف اپنی طبقاتی یا علاقائی فکر کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ ہمارا معاشرہ جو بنیادی طور پر جاگیردارانہ معاشرہ ہے آج تک
اسی ذہنیت کا حامل ہے۔ اس معاشرے کا بنیادی رویہ آج تک وہی جاگیردارانہ رویہ ہے اور جاگیر دارانہ نظام چوں کہ آج کھوٹے سکے کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے ہمارے سارے معاشرتی، معاشی اور سیاسی بحران اسی کھوٹے سکے کو مسلسل چلانے کی ذہنیت اور کوشش سے پیدا ہور ہے ہیں۔ آج کے ادب کو جمہوریت کے فروغ کے لیے جاگیر دارانہ نظام، جاگیردارانہ ذہنیت کو موضوع بنا کر اسے جلد سے جلد اپنے انجام کو پہنچانے کے لیے وہ شعور عوام میں پیدا کرنا چاہیے کہ یہ ذہن اور ذہنیت ہمیشہ کے لیے ہمارے معاشرے سے ختم ہو جائے ۔ اس نظام نے پاکستانی معاشرے کو کس کس طرح
سے خراب کیا ہے اور گذشتہ ۴۲ سال سے کس طرح نئے نئے بحرانوں کو جنم دیا ہے اور کس طرح ہمارے معاشرے کا انسان جبر و استحصال کا شکار ہوا ہے اور کس طرح انسانیت اس کے پیروں تلے روندی گئی ہے اور کیسی کیسی درد ناک کہانیوں نے جنم لیا ہے، اس کو ادب کا موضوع بنا کر نئے شعور کو جنم دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس نئے شعور سے
پاکستان نئی دنیا کی تعمیر کر سکے ۔ یہ وہ شعور ہے جس سے جمہوریت نہ صرف پروان چڑھتی ہے بلکہ فطری طریقے سے مستحکم ہوتی جاتی ہے اور وہ فضا پیدا ہوتی ہے جو ادب کی دین ہے اور جو جمہوریت کی اساس ہے۔ ادب انسان کو تعصبات سے بلند اُٹھاتا ہے۔ اسے اپنی ذات سے بلند کرتا اور جذبہ ایثار پیدا کرتا ہے، اسے خود غرضیوں کے جال سے نکالتا ہے، اسے جبر و استحصال اور آمریت کے عفریت سے آزاد کراتا ہے، اسے مقصد حیات کی روشنی دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جو بار بار آمریت کے دور ِ نا مسعود کا درد ہوتا ہے یا اس کا دھڑکا لگا رہتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ وڈیروں، سرمایہ داروں،
اور جاگیرداروں کا وہ ٹولا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں بار بار شکلیں بدل کر اقتدار پر قابض
ہو جاتا ہے اور صرف اپنے مفاد کی حفاظت کے لیے قانون کا محافظ بن جاتا ہے اور غریب عوام بے بسی کے عالم میں منھ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ عوام ہی اصل قوت کا سرچشمہ ہیں۔ جمہوریت عوام کو اُبھارتی، اُٹھاتی اور ان کی پرورش کرتی ہے اور ادب عوام کے مسائل، ان کے جذبات و احساسات کا اظہار کرتا ہے اور یہی اظہار معاشرے میں اس شعور کو پیدا کرتا ہے جس سے خود جمہوریت جڑ پکڑتی اور ارتقا کی منزل سے گزرتی ہے۔ ادب کا کام اپنے معاشرے کی جڑوں کو سیراب کرنا ہے، عوام سے اپنا رشته ناتا مضبوط کرنا ہے۔ ادب کے ذریعے قاری تک ان باتوں کو پہنچانا ہے جن کو اس نے ٹوٹے ٹوٹے انداز میں محسوس تو کیا تھا لیکن پوری طرح محسوس نہیں کیا تھا۔ اس احساس سے وہ شعور پیدا ہوتا ہے جو ادب کا کام اور مقصد ہے اور جو جمہوریت کے لیے تازہ ہوا کا درجہ رکھتا ہے۔ ادب زندگی کا اظہار ہے۔ وہ عہد حاضر کے تعلق سے زندگی کی ان گرہوں کو کھولتا ہے جو معاشرے کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ مسائل، محسوسات اور شعور کو تو اُبھارتا ہے لیکن تعصبات، تنگ نظری اور
خود غرضی کو مٹاتا ہے۔ بڑا ادب وہ ہے جو ذہن انسانی کو تبدیل کرے اور اسے عمل کی طرف رجوع کرے۔ آج ہمیں ایسے ہی ادب کو سامنے لانا چاہیے تاکہ ادب عوام اور جمہوریت کی روح کا ترجمان بن جائے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری معاشر آزادی کی فضا کو برقرار رکھے، ادب، ادبیوں اور ادبی قدروں کو اہمیت دے اور ان کا احترام کرے اور اُس غلامانہ ذہنیت کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدام کرے جو دو سو سالہ دورِ غلامی سے ہمیں ذہنی و فکری ورثے اور نظام فکر کے طور پر ملی ہے۔ 
دور غلامی کی اس ذہنیت نے اب تک ملک وقوم اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ذہنیت جہاں جہاں ہمیں نظر آئے اسے جمہوری فکر سے بدلنے اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ادیب کو جمہوریت
کے ارتقا و استحکام کے لیے اپنے قلم کو وقف کر دینا چاہیے، عوام سے نیا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ انگریزی دور کی غلامانہ ذہنیت سے معاشرے کو نجات دلانے کے لیے قلم اٹھانا چاہیے، جاگیردارانہ نظام کو مٹانے کے لیے ادب کو کار زار عمل میں لانا چاہیے، علاقائی تعصبات پر مبنی ذہنیت سے نجات حاصل کرنی چاہیے اور سب کے لیے یکساں انصاف کو اپنی فکری اساس بنانا چاہیے۔ نیا شعور اسی انصاف کی کوکھ سے جنم لے گا اور انصاف ہی وہ حقیقی قوت ہے جس پر صحت مند معاشرہ قائم ہوتا ہے اور خواتین و حضرات یاد رکھیے کہ نا انصافی اُس گیند کی مانند ہے کہ جسے آپ جس قوت سے معاشرے کی دیوار پر ماریں گے وہ اسی قوت سے واپس آئے گی۔ ادب، ادیب اور جمہوریت کے حامیوں کو نا انصافی کے اس عمل میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور قلم سے اس کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ جمہوریت کے ارتقا میں یہی وہ کردار ہے جو ادب و ادیب، عہد حاضر کے تعلق سے ادا کر سکتا ہے اور اسے یہی کرنا چاہیے۔ 

(۳۱ اگست ۶۱۹۸۹)

تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی


Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR